اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کی آج کل ایران کے خلاف جنگ اپنے اوج پر ہے یہاں تک کہ ایک سعودی روزنامے نے ایک مضمون میں دنیائے عرب اور سعودی عرب کا پہلا دشمن صہیونی حکومت کو نہیں بلکہ ایران کو بتایا ہے ۔
روزنامہ سعودی "الجزیرہ" نے محمد آل شیخ کے قلم سے ایک مضمون میں لکھا ہے: ضروری ہے کہ بغیر کسی تکلف کے ان لوگوں کا جواب دیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل دشمن اول ہے اور ایران اس مسئلے میں عربوں کے ساتھ ہے ۔
اس نے ابتدا میں ہی تاکید کی ہے کہ جی ہاں اسرائیل شمال کے عربوں جیسے مصر کے امن و ثبات کے لیے خطرہ ہے ،لیکن سعودی عرب اور خلیج فارس کے ملکوں کی بنسبت ایران پہلے نمبر کا دشمن ہے نہ کہ اسرائیل اور یہی اصلی خطرہ ہے اور ایران نے فلسطین اور اس کی آزادی کے مسئلے کو جہان عرب میں گہرائی تک نفوذ کے لیے بہانہ بنا رکھا ہے ۔
آل شیخ نے مزید کہا : یہ سچ ہے کہ اسرائیل سے قدس اور فلسطین کی آزادی کا مسئلہ عربوں کا سب سے پہلا تاریخی مسئلہ ہے لیکن اس وقت اور ایران کے مقاصد کے تحت فارسی دشمن اسرائیل پر مقدم ہے اور اس کا مقابلہ اسرائیل کے مقابلے سے زیادہ ضروری ہے ۔
اس نے اس کے بعد اپنے دعوے کی دلیل پیش کرتے ہوئے لکھا ہے : جس زمانے میں صدام نے کویت کو پر قبضہ کیا تھا اس زمانے میں ہماری ترجیح کویت کی آزادی اور صدام کا مقابلہ تھی نہ کہ اسرائیل کا مقابلہ ۔ اس وقت بھی ایران کے ساتھ ہمارا مسئلہ ہماری موجودیت کے خطرے کا مسئلہ ہے اور ہم اس سلسلے میں کوئی سہل انگاری نہیں کریں گے ۔
محمد آل شیخ نے آگے لکھا : لبنان مصر اور فلسطین کے ملکوں کے لوگوں کو اس چیز کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔میں نہیں سوچتا کہ کوئی خلیج فارس میں ہو اور اسرائیل کے ساتھ دشمنی کو ایران پر ترجیح دے ۔
لبنان اور شام کے لوگ اگر ہم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم اسرائیل کے خطرے کو ایران پر مقدم سمجھیں ،تو ہم یہ کہیں گے کہ وہ خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں ۔ میں براہ راست ان سے کہتا ہوں کہ خلیج فارس کے ملکوں میں جو شخص بھی یہ کہے کہ اسرائیل کا خطرہ ایران سے زیادہ اہم ہے وہ اپنے ملک اور اس کی امنیت کا خائن ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲